ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اب کی بار بی جے پی پر وار؛بی جے پی قائدین کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کرنے حکومت کی پہل

اب کی بار بی جے پی پر وار؛بی جے پی قائدین کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کرنے حکومت کی پہل

Fri, 27 Oct 2017 20:56:05    S.O. News Service

بنگلورو،27؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) ریاستی وزیر کے جے جارج کے خلاف ڈی وائی ایس پی ایم کے گنپتی کی خود کشی کے معاملے میں سی بی آئی کی طرف سے ایف آئی آر درج ہوتے ہی ریاستی کانگریس حکومت نے بی جے پی لیڈران کی طرف سے ان کے دور اقتدار میں کی گئی مبینہ دھاندلیوں کی بنیاد پر مقدمے درج کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس سلسلے میں آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور، کارگذار صدور دنیش گنڈو راؤ ، ایس آر پاٹل، وزراء جناب روشن بیگ، ڈی کے شیوکمار ، رمیش کمار ، ٹی بی جئے چندرا اور ریاست کے سینئر وکیلوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ اس میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ، مرکزی وزراء ہرش وردھن ، نتن گڈکری وغیرہ کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔اسی طرح ریاستی بی جے پی قائدین کے خلاف بھی متعدد فوجداری مقدمات کے سلسلے میں ایف آئی آر اور تحقیقاتی مرحلے چل رہے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو کئی ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود بھی اترپردیش کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا ،اسی طرح ہرش وردھن اور نتن گڈکری کے خلاف سنگین معاملات میں ایف آئی آر درج ہیں، لیکن ڈی وائی ایس پی ایم کے گنپتی کی خود کشی میں کے جے جارج کا کوئی رول نہ ہونے کے باوجود سی بی آئی نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے جارج کے خلاف مرکزی حکومت کے دباؤ میں آکر ایف آئی آر درج کیا ہے، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے بی جے پی قائدین کو نشانہ بنانے کی جوابی حکمت عملی وضع کرنا شروع کردیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ جارج کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے خلاف جہاں قانونی جنگ جاری رکھی جائے گی ، ساتھ ہی اس طرح کے مقدمات میں الجھے بی جے پی قائدین کے خلاف کارروائی کو سختی سے آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیاگیا۔ میٹنگ کے دوران اس امر پر بھی غور ہوا کہ جن بی جے پی قائدین کے خلاف ایف آئی آر درج ہیں ان کی فہرست تیار کی جائے تاکہ ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کے ساتھ قانونی کارروائی کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ اس قانونی جنگ کے علاوہ بی جے پی کی مبینہ رشوت ستانی اور اس کے دور اقتدار میں ہوئی کرپشن کوعوام کے سامنے لانے کیلئے سیاسی مہم کو بھی شدت سے اپنانے پر اتفاق کیاگیا۔


Share: